مرکبات
9:1سبق نمبر3 میں ہم نے پڑھا تھا کہ اسم کے درست استعمال کے لیے چار پہلوؤں سے اس کا جائزہ لے کر اسے قواعد کے مطابق کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ گزشتہ اسباق میں ہم نے سمجھ لیا کہ اسم کے مذکورہ چار پہلو کیا ہیں اور اس سلسلہ میں کچھ مشق بھی کر لی۔ اب تک ہماری تمام مشقیں مفرد الفاظ پر مشتمل تھیں۔ یہی مفرد الفاظ جب دو یا دو سے زیادہ تعداد میں باہم ملتے ہیں تو بامعنی مرکبات اور جملے وجود میں آتے ہیں۔ ہمارے اگلے اسباق انہی کے متعلق ہوں گے۔ اس لیے اس سبق میں ہم دو الفاظ کو ملا کر لکھنے کی مشق کریں گے۔
9:2آگے بڑھنے سے پہلے مناسب ہے کہ ہم ایک ضروری بات ذہن نشین کر لیں۔ "مفرد" کی اصطلاح دو مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔ جب کسی اسم کے عدد کے پہلو پر بات ہو رہی ہو تو جمع اور تثنیہ کے مقابلہ میں واحد لفظ کو بھی مفرد کہتے ہیں، لیکن اس کےلیے زیادہ تر واحد کی اصطلاح ہی مستعمل ہے۔دوسری طرف کسی مرکب یا جملہ میں استعمال شدہ متعدد الفاظ میں سے کسی تنہا لفظ کی بات ہو تو اسے بھی "مفرد" کہتے ہیں اور یہاں ہم نے مفرد کا لفظ اسی مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ اب دو مفرد الفاظ کو ملا کر لکھنے کی مشق کرنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ ہم مرکبات اور ان کی اقسام کے متعلق کچھ بات سمجھ لیں۔
9:3دو یا دو سے زیادہ مفرد الفاظ کے آپس کے تعلق کو ترکیب کہتے ہیں اور ان کے مجموعے کو مرکب کہتے ہیں۔ جیسے سمندر مفرد لفظ ہے ، اسی طرح گہرا بھی مفرد لفظ ہے اور جب ان دونوں الفاظ کو ملایا جاتا ہے تو ایک بامعنی فقرہ بن جاتا ہے "گہرا سمندر" اسے مرکب کہیں گے۔چنانچہ دو یا دو سے زیادہ الفاظ پر مشتمل بامعنی فقرہ کو مرکب کہا جاتا ہے اور یہ ابتداءََ دو قسموں میں تقسیم ہوتا ہے، مرکبِ ناقص اور جملہ۔
9:4مرکبِ ناقص ایسا مرکب ہے جس کے سننے سے نہ کوئی خبر معلوم ہو ، نہ کوئی حکم سمجھا جائے اور نہ کسی خواہش کا اظہار ہو، بلکہ بات ادھوری رہے، جیسے ایک سخت عذاب ، اللہ کا رسول وغیرہ۔ مرکبِ ناقص کی کئی اقسام ہیں جیسے مرکبِ توصیفی ، مرکبِ اضافی ، مرکبِ جاری ، مرکبِ اشاری وغیرہ۔ آئندہ اسباق میں ان شاء اللہ تعالٰی ہم ان کی تفصیلات اور قواعد کا مطالعہ کریں گے۔
9:5جب دو یا دو سے زائد الفاظ کے مرکب سے کوئی خبر معلوم ہو یا کوئی حکم سامنے آئے یا کسی خواہش کا اظہار ہو تو ایسے مرکب کو جملہ کہتے ہیں۔ جیسے "مسجد کشادہ ہے"۔ اس میں مسجد کے متعلق خبر معلوم ہوئی ہے کہ وہ کشادہ ہے۔ یا "کتاب پکڑ" اس میں کتاب پکڑنے کا حکم سامنے آیا۔اسی طرح " اے ہمارے رب ہماری مغفرت فرما دے!" اس میں خواہش کا اظہار ہے۔یہ تمام جملے ہیں۔جملے دو قسم کے ہوتے ہیں، جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ۔عربی میں ان کی شناخت بہت آسان ہے۔جس جملہ کی ابتداء کسی اسم سے ہو رہی ہو اسے جملہ اسمیہ کہتے ہیں اور جس جملہ کی ابتداء کسی فعل سے ہو رہی ہو اسے جملہ فعلیہ کہتے ہیں۔گرامر کی اصطلاح میں جملہ کو مرکب ِ تام بھی کہتے ہیں۔
9:6دو مفرد الفاظ کو ملا کر لکھنے کا ایک طریقہ سمجھنے کے لیےپہلے ان دو فقروں پر غور کریں۔ صَادِقٌ وَ حَسَنٌ (ایک سچا اور ایک خوبصورت) اَلصَّادِقُ وَالْحَسَنُ (سچا اور خوبصورت) پہلے فقرے میں وَ الگ پڑھا جارہا ہے اور حَسَنٌ الگ ، لیکن دوسرے فقرے میں وَ کو آگے اَلْحَسَنُ سے ملا کر پڑھا گیا ہے۔ اس کی وجہ سمجھنے کے لیے یہ اصول سمجھ لیں کہ جس لفظ پر لامِ تعریف لگا ہو وہ اپنے سے پہلے لفظ سے ملا کر پڑھا جاتا ہے۔ اس صورت میں لامِ تعریف کا ہمزہ (جسے عام طور پر ہم الف کہتے ہیں) لکھنے میں تو موجود رہتا ہے لیکن تلفظ میں گر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر سے زبر کی حرکت ہٹا دی جاتی ہے۔ چنانچہ وَاَلْحَسَنُ لکھنا اور پڑھنا غلظ ہوگا۔ بلکہ یہ وَالْحَسَنُ لکھا اور پڑھا جائے گا۔ اب یہ بھی یاد کرلیں کہ جو ہمزہ پہلے لفظ سے ملانے کی وجہ سے تلفظ میں گر جاتا ہے اسے ھَمْزَۃُالْوَصَل کہتے ہیں۔ چنانچہ اِبْنٌ (بیٹا) ، اِمْرَءَۃٌ ( عورت) ، اِسْمٌ (نام) اور لامِ تعریف کا ہمزہ ، ہمزۃ الوصل ہے۔
9:7اسی سلسلے میں دوسرا اصول سمجھنے کے لیے دو اور فقروں پر غور کریں ، صَادِقٌ اَوْ كَاذِبٌ (ایک سچا یا ایک جھوٹا) ، اَلصَّادِقُ اَوِ الْکَاذِبُ (سچا یا جھوٹا) پہلے فقرے میں اَوْ(یا) کو آگے ملانا ضروری نہیں تھا اس لیے وہ اپنی اصلی حالت پر ہے اور واؤ کی جزم برقرار ہے۔ لیکن دوسرے فقرے میں اسے آگے ملانا ضروری تھا ، کیونکہ اگلے لفظ اَلْکَاذِبُ پر لامِ تعریف لگا ہوا ہے ، جس کا ہمزہ ہمزۃ الوصل ہے۔ اس لئے اَوْ کی واؤ کی جزم کی جگہ زیر آگئی۔ اس کا اصول یہ ہے کہ ھَمْزَۃُ الْوَصَل سے پہلے لفظ کا آخری حرف اگر ساکن ہو تو اُسے عموماََ زیر دے کر آگے ملاتے ہیں۔ صرف چند الفاظ اس ے مستثنٰی ہیں۔ جیسے لفظ مِنْ (سے) اس کی نون کو زبر دے کر آگے ملاتے ہیں ، یعنی مِنَ الْمَسْجِدِ (مسجد سے ) وغیرہ۔