اسم کی حالت(Case)

4:1کسی بھی زبان میں اسم تین ہی حالتوں میں ہو سکتا ہے یعنی کہ یا تو وہ حالت فاعلی (Subjective or Nominative Case) میں ہوگا یا پھر وہ حالت مفعولی (Objective Case) میں ہوگا یا پھر وہ حالت اضافی (Possessive Case) میں ہوگا۔

4:2عربی میں بھی اسم کے استعمال کی یہی تین حالتیں ہوتی ہیں اور انہیں حالت رفع,حالت نصب, حالت جر یا مختصر طور پر رفع , نَصب اور جَر بھی کہتے ہیں۔

4:3جب بھی کوئی اسم ایک حالت سے دوسری حالت میں جاتا ہے تو اُس میں کچھ تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں ۔اس بات کو ہم انگریزی  جملوں کی مدد سے سمجھتے ہیں۔

Ali gave a book to Zaid

اوپر جملہ میں Ali جملہ کا subject ہے اور Zaid جملہ کا Object ہے۔

Zaid gave a book to Ali

جبکہ اس جملہ میں Zaid جملہ کا Subject اور Ali جملہ کا Object ہے۔

4:4اوپر جملوں میں ہم نے Ali اور Zaid کی position سے پتہ لگا لیا کہ حالت رفع یعنی (Subjective Case) میں کونسا اسم ہے اور حالت نصب یعنی (Objective Case) میں کونسا اسم ہے

یہ تو ہوگی انگریزی سے ایک مثال اب سوال یہ ہے کہ ہمیں عربی زبان میں کیسے پتہ چلے گا کہ کونسا اسم کونسی حالت میں ہے ؟

مُعْرَبْ مُنْصَرِف یا مُنصَرِف اسماء

عربی میں اسم کی حالت کو پہچاننے کی کُچھ علامات ہیں ۔ یہ علامات ایک سے زیادہ ہیں۔اس وقت ہم صرف ایک علامت سمجھیں گے جس کا تعلق منصرف اسماء سےہے

4:5 یہ مُعْرَبْ مُنْصَرِف یا مُنصَرِف اسماء کیا ہیں؟

ایسے اسماء(جمع: اسم)جو تین حالتوں میں تین شکلیں اختیار کریں معرب منصرف یا منصرف اسماء کہلاتے ہیں

منصرف اسماء کی پہچان کی علامت یہ ہے کے ان کے آخری حرف پر تنوین آتی ہے یعنی کہ جب اسم حالت رفع میں ہوگا تو اُس اسم کے آخری حرف پر دو پیش ٌ اور حالت نصب میں دو زبر ََ اور حالت جر میں دو زیر ِِ آئیں گی۔

عربی زبان کے کُل اسماء میں سے80-85 فیصد اسماء منصرف ہیں۔

اسم معرب منصرف کے آخری حرف کی تبدیلی کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

چند معرب منصرف اسماء کی گردان مع معنی

حالتِ رفعیحالتِ نصبحالتِ جرمعنی
مُحَمَّدٌمُحَمَّدََامُحَمَّدِِیہ نام ہے
شَيْءٌشَیْئََاشَيْءِِچیز
جَنَّةٌجَنَّةََجَنَّةِِباغ
بِنْتٌبِنْتََابِنْتِِلڑکی
سَمَاءٌسَمَاءََسَمَاءِِآسمان
سُوْءٌسُوْءََسُوْءِِبُرائی

4:6امید ہے اوپر درج مثالوں میں آپ نے یہ بات نوٹ کر لی ہوگی کہ:

  1. جس اسم پر حالت نصب میں دو زبر ََ آتے ہیں ، اس کے آخر میں ایک الف بڑھا دیا جاتا ہےمثلاَ مُحَمَّدٌ جب کسی وجہ سے حالت نصب میں جائے گا تو اُسے مُحَمَّدََ  لکھناغلط ہے بلکہ  مُحَمَّدََا لکھاجائے گا - اسی طرح كِتَابٌ سے کِتَابََاوغیرہ
  2. اس قاعدہ کے دو اِسْتِثْنَاء یعنی exceptions ہیں ۔اول یہ کہ جس لفظ کا آخری حرف گول "ۃ"  ہو (تائے مربوطہ) اس پر دو زبر لکھتے وقت الف کا اضافہ نہیں ہوگا، مثلاََ جَنَّتََا لكھنا غلط ہے، اسے جَنَّةََ لكھا جائے گا۔دیکھئے ! بِنْتٌ كا لفظ گول "ۃ" پر نہیں بلکہ لمبی ت (یعنی تائے مبسوطہ) پر ختم ہو رہا ہے۔ اس لیے اس پر استثناء کا اطلاق نہیں ہوا اور حالتِ نصب میں اس پر دو زبر لکھتے وقت الف کا اضافہ کیا گیا ہے۔
  3. دوسرا استثناء یہ ہے کہ جو لفظ الف یا واؤ کے ساتھ ہمزہ پر ختم ہو اس کے آخر میں بھی الف کا اضافہ نہیں ہوگا۔ مثلاََ  سَمَاءٌ سے سَمَاءََ۔ دیکھےشَيْءٌ کا لفظ بھی ہمزہ پر ختم ہو رہا ہے لیکن اس سے قبل الف یا واؤ نہیں بلکہ 'ی' ہے اس لیے اس پر دو زبر لگاتے وقت الف کا اضافہ کیا گیا ہے ، یعنى شَيْءٌ سے شَیْئََا

ضروری ہدایت

کسی سبق میں جہاں کہیں کسی عربی لفظ کے معنی دیے گئے ہوں ان کو یاد کرنا اپنا معمول بنا لیں۔ ایسا کرنے سے آپ کے ذخیرہ الفاظ یعنیvocabulary میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا نیز مشق کرنے میں بھی آسانی رہے گی

پچھلا سبق اس درس کی مشق اگلا سبق