عدد (Number)

7:1دوسری زبانوں میں عدد یعنی تعداد کے لحاظ سے اسم کی دو ہی قسمیں ہوتی ہیں، ایک کے لیے واحد یا مفرد اوردو یا دو سے زیادہ کے لیے جمع۔ لیکن عربی میں جمع تین سے شروع ہوتی ہے اور دو کے لیے الگ اسم اور فعل استعمال ہوتے ہیں۔ دو کے صیغے کو تثنیہ کہتے ہیں۔اس طرح عربی میں عدد کے لحاظ سے اسم کی تین قسمیں ہیں: واحد، تثنیہ اور جمع۔ کسی اسم کو واحد سے تثنیہ یا جمع بنانے کے لیے کچھ قاعدے ہیں جن کا اس سبق میں ہم مطالعہ کریں گے۔

واحد سے تثنیہ بنانے کا قاعدہ

7:2اس سلسلہ میں پہلی بات یہ ذہن نشین کر لیں کہ اسم خواہ مذکر ہو یا مؤنث،،دونوں کے تثنیہ بنانے کا ایک ہی قاعدہ ہے۔ اور وہ قاعدہ یہ ہے کہ حالتِ رفع میں واحد اسم کے آخری حرف پر زبر  (َ) لگا کر اس کے آگے الف اور نونِ مکسورہ (یعنی َ ا نِ )کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ مثلاََ مُسْلِمٌ  سے مُسْلِمَانِ، مُسْلِمَۃٌ سے مُسْلِمَتَانِ وغیرہ۔ جب کہ حالت نصب اور جر میں واحد اسم کے آخری حرف پر زبر (َ ) لگا کر اس کے آگے یائے ساکن اور نونِ مکسورہ یعنی (َ یْنِ) کا اضافہ کرتے ہیں، جیسے مُسْلِمٌ سے مُسْلِمَیْنِ، مُسْلِمَۃٌ سے مُسْلِمَتَیْنِ ۔ اس قاعدہ کا استثناء ابھی تک میرے علم میں نہیں آیا۔ اس کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

واحدتثنیہ
 رفع  ( َ ا نِ)نصب  ( َیْنِ)جر  ( َیْنِ)
کِتَابٌكِتَابَانِكِتَابَیْنِكِتَابَیْنِ
جَنَّةٌجَنَّتَانِجَنَّتَیْنِجَنَّتَیْنِ
مُسْلِمٌمُسْلِمَانِمُسْلِمَیْنِمُسْلِمَیْنِ
مُسْلِمَۃٌمُسْلِمَتَانِمُسْلِمَتَیْنِمُسْلِمَتَیْنِ

جمع کی قسمیں

7:3عربی زبان میں جمع دو طرح کی ہوتی ہے: جمع سالم اور جمع مکسر۔ جمع سالم میں واحد لفظ جوں کا توں موجود رہتا ہے اور اس کے آخر پر کچھ حرفوں کا اضافہ کر کے جمع بنالیتے ہیں۔جس طرح انگریزی میں واحد لفظ کے آخر میں s یا es بڑھا کر جمع بناتے ہیں۔ مگر جس طرح انگریزی میں تمام اسماء کی جمع اس قاعدے کے مطابق نہیں بنتی بلکہ کچھ کی مختلف بھی ہوتی ہے۔ مثلاََ his کی جمع  their ہے۔ اسی طرح عربی میں بھی تمام اسماء کی جمع سالم نہیں بنتی بلکہ کچھ اسماء کی جمع اس طرح آتی ہے کہ یا تو واحد لفظ کے حروف تتر بتر ہو جاتے ہیں یا بالکل تبدیل ہو جاتے ہیں۔مثلاََ عَبْدٌ (غلام ، بندہ) کی جمع عِبَادٌ  اور اِمْرَءَۃٌ  کی جمع نِسَاءٌ  ہے۔ ان کو جمع مُکَسَّر کہتے ہیں۔ مکسر کے معنی ہیں "توڑا ہوا" چونکہ اس میں واحد لفظ کے حروف کی ترتیب ٹوٹ جاتی ہے اس لیے انہیں جمع مکسر کہتے ہیں۔ اب ہم جمع سالم بنانے کا قاعدہ سمجھتے ہیں۔ لیکن پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ واحد سے تثنیہ بنانے کا قاعدہ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے ایک ہی ہے، جبکہ واحد سے جمع سالم بنانے کا قاعدہ مذکر کے لیے الگ ہے اور مؤنث کے لیے الگ

جمع مذکر سالم بنانے کا قاعدہ

7:4حالتِ رفع میں واحد اسم کے آخری حرف پر ایک پیش ُ لگا کر  اس کے آگے واؤ ساکن اور نونِ مفتوحہ یعنی (ُ وْ نَ) کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ مثلاََ مُسْلِمٌ سے مُسْلِمُوْنَ ۔ جب کہ حالتِ نصب اور جر میں واحد اسم کے آخری حرف پر زیر  لگا کر اس کے آگے یائے ساکن اور نونِ مفتوحہ یعن      ِ  یْنَ کا اضافہ کرتے ہیں۔ جیسے مُسْلِمٌ سے مُسْلِمِیْنَ ۔ اس کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

واحدجمع مذکر سالم
 رفع   (ُ  وْ نَ  )نصب  (  ِ یْنَ  )جر  (  ِ  یْنَ  )
مُسْلِمٌمُسْلِمُوْنَمُسْلِمِیْنَمُسْلِمِیْنَ
نَجَّارٌنَجَّارُوْنَنَجَّارِيْنَنَجَّارِيْنَ
خَیَّاطٌخَیَّاطُوْنَخَیَّاطِیْنَخَیَّاطِیْنَ
فَاسِقٌفَاسِقُوْنَفَاسِقِیْنَفَاسِقِیْنَ

جمع مؤنث سالم بنانے کا قاعدہ

7:5اس قاعدہ کے تحت ایسے مؤنث اسماء کی جمع سالم بنتی ہے جن کے آخر میں تائے مربوطہ آتی ہے۔ قاعدہ یہ ہےکہ تائے مربوطہ گِرا کر حالت رفع میں  (  ا تٌ  ) جبکہ حالتِ نصب اور جر میں ( ا تِِ  ) لگا دیتے ہیں، جیسے کَافِرَۃٌ  سے کَافِرَاتٌ  اور کَافِرَاتِِ ۔ اس کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

واحدجمع مؤنث سالم
 رفع  ( ا تٌ )نصب  ( اتِِ )جر  ( اتِِ )
مُسْلِمَۃٌمُسْلِمَاتٌمُسْلِمَاتِِمُسْلِمَاتِِ
فَاسِقَةٌفَاسِقَاتٌفَاسِقَاتِِ

فَاسِقَاتِِ

جمع مکسر

7:6جمع مکسر بنانے کا کوئی خاص قاعدہ نہیں ہے۔ انہیں یاد کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے اب ذخیرہ الفاظ میں ہم واحد کے سامنے ان کی جمع مکسر لکھ دیا کریں گے تاکہ آپ انہیں یاد کرلیں۔ جمع مکسر زیادہ تر معرب منصرف ہوتی ہیں، لیکن کچھ غیر منصرف بھی ہوتی ہیں۔ ان کی سادہ سی پہچان یہ ہے کہ جن کے آخری حرف پر دو پیش ٌ ہوں تو انہیں معرب منصرف مانیں اور جن کے آخری حرف پر ایک پیش ہو انہیں غیر منصرف سمجھیں۔

صورتِ اعراب

7:7پیراگراف نمبر 4:4 میں آپ کو بتایا تھا کہ عربی عبارت میں اسم کی حالت کو پہچاننے کی علامات یعنی صورت اعراب ایک سے زیادہ ہیں۔ اب آپ نوٹ کر لیں کہ آپ نے تمام صورت اعراب پڑھ لی ہیں جو کہ کُل پانچ ہیں۔ انہیں ہم دوبارہ یکجا کر کے دے رہے ہیں تاکہ آپ انہیں ذہن نشین کر لیں۔

صورتِ اعرابکس قسم کے اسماء اس صورت میں آتے ہیں
 رفعنصبجر 
(1)ٌََِِمعرب منصرف - واحد اور جمع مکسر (مذکر و مؤنث)
(2)َُِغیر منصرف ۔ واحد اور جمع مکسر (مذکر و مؤنث)
(3)َ  ا نَِ  یْنَِ  یْنِصرف تثنیہ( مذکر و مؤنث)
(4)ُ  وْ نَِ  یْنَِ  یْنَصرف جمع مذکر سالم
(5)َ  ا تٌَ  ا تَِِ  ا تِِصرف جمع مؤنث سالم

مذکورہ بالا نقشہ میں پہلی دو صورتِ اعراب کو " اِعراب بالحرکۃ" کہتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ تبدیلی زبر، زیر ، پیش یعنی حرکات کی تبدیلی سے ہوتی ہے۔ جب کہ آخری تین صورتِ اعراب کو "اعراب بالحروف " کہتے ہیں۔

7:8گذشتہ سبق میں ہم نے اسم کی گردان کی تو ایک لفظ کی چھ شکلیں بنائی تھیں۔ لیکن اب ہم نے واحدکا تثنیہ اور جمع بھی بنانا ہے اس لیے ایک لفظ کی اب اٹھارہ شکلیں ہوں گی۔ البتہ مذکر غیر حقیقی کا مؤنث نہیں آئے گا اور مؤنث غیر حقیقی کا مذکر نہیں آئے گا۔ اس لیے ان کی نو، نو (9) شکلیں ہوں گی۔مثال کے طور پر ہم ایک لفظ مُسْلِمٌ لیتے ہیں۔ اس کا مؤنث بھی بنتا ہے ، اس لیے اس کی اٹھارہ شکلیں بنائیں گے۔دوسرا لفظ کِتَابٌ لیتے ہیں۔ یہ مذکر غیر حقیقی ہے۔ اس کا مؤنث نہیں آئے گا، اس لیے اس کی نو شکلیں ہوں گی اور اس کی جمع مکسر کُتُبٌ  آتی ہے۔ تیسرا لفظ جَنَّةٌ لیتے ہیں۔ یہ مؤنث غیر حقیقی ہے۔ اس کا مذکر نہیں آئے گا، اس لیے اس کی بھی نو شکلیں ہوں گی۔تینوں الفاظ کے اسماء کی گردانیں مندرجہ ذیل ہیں:

  حالتِ رفعحالتِ نصبحالتِ جر
مذکرواحدمُسْلِمٌمُسْلِمََامُسْلِمِِ
تثنیہمُسْلِمَانِمُسْلِمَيْنِمُسْلِمَيْنِ
جمعمُسْلِمُوْنَمُسْلِمِيْنَمُسْلِمِيْنَ
مؤنثواحدمُسْلِمَةٌمُسْلِمَةََمُسْلِمَةِِ
تثنیہمُسْلِمَتَانِمُسْلِمَتَيْنِمُسْلِمَتَيْنِ
جمعمُسْلِمَاتٌمُسْلِمَاتِِمُسْلِمَاتِِ
مذکر غیر حقیقیواحدكِتَابٌكِتَابََاكِتَابِِ
تثنیہكِتَابَانِكِتَابَيْنِكِتَابَيْنِ
جمعكُتُبٌكُتُبََاكُتُبِِ
مؤنث غیر حقیقیواحدجَنَّةٌجَنَّةََجَنَّةِِ
تثنیہجَنَّتَانِجَنَّتَيْنِجَنَّتَيْنِ
جمعجَنَّاتٌجَنَّاتِِجَنَّاتِِ

ضروری ہدایات

اس سبق میں ایک لفظ کی آپ 18 شکلیں بنا رہے ہیں۔ اس کے بعد اگلے سبق میں ایک لفظ کی آپ ان شاء اللہ 36 شکلیں بنائیں گے۔ اس مرحلہ پر اکثر طلبہ اس کو بے مقصد مشقت سمجھ کر بددلی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان مشقؤں میں دلچسپی نہیں لیتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ اس کا مقصد سمجھ لیں۔

آگے چل کر مرکبات اور جملوں میں کوئی اسم استعمال کرتے وقت آپ کو اسے چاروں پہلوؤں سے قواعد کے مطابق بنانا ہوگا۔ فرض کریں لفظ مُسْلِمٌ  کو رفع، مؤنث ، جمع اور معرفہ استعمال کرنا ہے۔ اب اگر آپ اس طرح کریں گے کہ پہلے مُسْلِمٌ  کی مؤنث مُسْلِمَۃٌ بنائیں پھر اس کی جمع مُسْلِمَاتٌ  بنائیں، پھر اس کا معرفہ اَلْمُسْلِمَاتُ بنائیں تو اندازہ کریں کہ اس پر آپ کا کتنا وقت خرچ ہوگا۔

ان مشقوں کا مقصد آپ کے ذہن میں یہ صلاحیت پیدا کرنا ہے کہ لفظ مُسْلِمٌ  کے مذکورہ چاروں پہلوؤں کے حوالے سے جب آپ سوچیں تو ذہن میں براہِ راست اَلْمُسْلِمَاتُ کا لفظ آئے۔ اس مرحلہ پر جو طلبہ دلچسپی اور توجہ سے یہ مشقیں کر لیں گے ان میں ان شاء اللہ یہ صلاحیت پیدا ہو جائے گی اور آگے چل کر ان کی بہت سی محنت اور وقت بچ جائے گا۔

پچھلا سبق اس درس کی مشق اگلا سبق