جنس (Gender)
6:1کسی اسم کو عبارت میں درست طریقے پر استعمال کرنے کے لیے جن چار پہلوؤں سے دیکھا جانا ضروری ہے، ان میں سے پہلی چیز اسم کی حالت (یا اعرابی حالت) ہے، جس پر پچھلے سبق میں کچھ بات ہو چکی ہے۔ اسم کی بحث میں دوسرا اہم پہلو "جنس" کا ہے۔ جنس کے لحاظ سے عربی زبان میں (بلکہ عموماََ ہر زبان میں) اسم کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ وہ یا مذکر ہوگا ، یعنی عبارت میں اس کا ذکر ایسے ہوگا جیسے کسی نر (male) کا ذکر ہو رہا ہے، یا پھرمؤنث کے طور پر استعمال ہوگا۔ ہر زبان میں الفاظ کے مذکر و مؤنث کے استعمال کے فوائد یکساں نہیں ہیں۔کسی زبان میں ایک لفظ مذکر بولا جاتا ہے تو دوسری زبان میں وہ مؤنث ہو سکتا ہے۔ مثلاََ، انگریزی میں بحری جہاز (ship) اور چاند (moon) مؤنث استعمال ہوتے ہیں مگر اردو میں مذکر۔ لہٰذا کسی بھی زبان کو سیکھنے کے لیے اس زبان کے اسماء کی تذکیر و تانیث یعنی ان کو مذکر یا مؤنث کی طرح استعمال کرنے کا علم ہونا ضروری ہے۔
6:2عربی اسماء پر غور کرنے سے علماء نحو نے یہ دیکھا کہ یہاں مذکر اسم کے لیے تو کوئی خاص علامت نہیں مگر مؤنث اسماء معلوم کرنے کی کچھ علامات ضرور ہیں، جنہیں علاماتِ تانیث کہتے ہیں۔ لہٰذا عربی سیکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ کسی اسم کے استعمال میں اس کی جنس کو متعین کرنے کے لیے علاماتِ تانیث کے لحاظ سے اس کو دیکھیں۔ اگر اس میں تانیث کی کوئی بات پائی جاتی ہے تو وہ اسم مؤنث شمار ہوگا، ورنہ اسے مذکر ہی سمجھا جائے گا۔ کسی اسم میں تانیث کی شناخت کے حسبِ ذیل طریقے ہیں۔
6:3پہلا طریقہ یہ ہے کہ لفظ کے معنی پر غور کریں۔ اگر وہ کسی حقیقی مؤنث کے لیے ہے یعنی اس کے مقابلہ پر مذکر (یا نر) جوڑا بھی ہوتا ہے، جیسے اِمْرَاَةٌ (عورت) کے مقابلہ پر رُجُلٌ (مرد)، اُمٌّ (ماں) کے مقابلہ پر اَبٌ (باپ) وغیرہ ، تو وہ لازماََ مؤنث ہوگا۔ ایسے اسماء کو "مؤنث حقیقی" کہتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لفظ کو دیکھیں کی اس میں تانیث کی کوئی علامت موجود ہے ؟ یہ علامات تین ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسم کے آخری حصہ میں آتی ہے۔ علامات یہ ہیں "ۃ"، " َ ا ء"، " ٰی" یعنی کوئی اسم اگر ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ختم ہوتا نظر آئےتو اسے مؤنث سمجھا جائے گا۔ ایسے اسماء کو "مؤنث قیاسی" کہتے ہیں۔
6:3اب یہ بات سمجھ لیجیے کہ جن الفاظ کے آخر میں گول "ۃ" آآتی ہے، عربی میں انہیں مؤنث مانا جاتا ہے۔ مثلاََ جَنَّۃٌ(باغ) یا صَلٰوةٌ (نماز) وغیرہ عربی میں مؤنث استعمال ہوتے ہیں۔ نیز اکثر الفاظ کومؤنث بنانے کا طریقہ بھی یہی ہے کہ مذکر لفظ کے آخری حرف پر زبر لگا کر اس کے آگےگول "ۃ" کا اضافہ کر دیتے ہیں جیسے کَافِرٌ(کافر) سے کَافِرَۃٌ(کافرہ)، حَسَنٌ (اچھا، خوبصورت) سےحَسَنَۃٌ ( اچھی، خوبصورت) وغیرہ - اس قاعدہ سے گنتی کے چند الفاظ مستثنٰی ہیں، مثلاََ خَلِیْفَۃٌ ( مسلمانوں کا حکمران)، عَلَّامَۃٌ ( بہت بڑا عالم) وغیرہ۔ حالانکہ ان کے آخر میں گول "ۃ" ہے، لیکن یہ مذکر استعمال ہوتے ہیں۔ دوسری علامتَ تانیث " َ ا ءُ " ہے جسے الف ممدودہ کہتے ہیں۔جن اسماء کے آخر میں یہ علامت آتی ہے انہیں بھی مؤنث مانا جاتا ہے، مثلاََ حَمْرَاءُ (سرخ)، خَضْرَاءُ (سبز)، وغیرہ۔ خیال رہے کہ الف ممدودہ پر ختم ہونے والے اسماءغیر منصرف ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہمزہ پر تنوین کے بجائے ایک پیش آتی ہے۔ تیسری علامتَ تانیث " ٰ ی " ہے جسے الفِ مقصورہ کہتے ہیں۔ جن اسماء کے آخر میں یہ علامت آتی ہے انہیں بھی مؤنث مانا جاتا ہے، مثلاََ عُظْمٰی (عظیم) ، کُبْرٰی(بڑی) وغیرہ - خیال رہے کہ الف مقصورہ پر ختم ہونے والے اسماء رفع، نصب اور جر تینوں حالتوں میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کرتے۔ اس لیے مختلف اعرابی حالتوں میں ان کا استعمال بھی مبنی اسماء کی طرح ہوگا۔
6:5بہت سے اسم ایسے ہوتے ہیں جو درحقیقت نہ تو مذکر ہوتے ہیں، نہ مؤنث اور نہ ہی ان پر مؤنث کی کوئی علامت ہوتی ہے۔ ایسے اسماء کی جنس کا تعین اس بنیاد پر ہوتا ہے کی اہل زبان انہیں کس طرح بولتے ہیں۔ جن اسماء کو اہل زبان مؤنث بولتے ہیں انہیں " مؤنث سماعی" کہتے ہیں، اس لیے کہ ہم اہل زبان کو اسی طرح بولتے ہوِئے سنتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورج کو لے لیں۔ اب حقیقتاََ سورج نہ تو مذکر ہے اور نہ ہی مؤنث۔ ہم نے اردو کے اہل زبان کو اسے مذکر بولتے ہوِے سنا ہے، اس لیے اردو میں سورج مذکر ہے۔ جبکہ عربی کے اہل زباں شَمْسٌ (سورج) کو مؤنث بولتے ہیں۔ اس لیے عربی میں شَمْسٌ مؤنثِ سماعی ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ دہلی والے دہی کو "کھٹا" کہتے ہیں جبکہ لکھنؤ والے اسے "کھٹی" کہتے ہیں۔ اس لیے لکھنؤ والوں کے لیے دہی مؤنث سماعی ہے۔ اب ذیل میں چند الفاظ دیے جارہے ہیں جو اردو اور عربی دونوں زبانوں میں مؤنث بولے جاتے ہیں۔ آپ ان کے معنی یاد کر لیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ مؤنث سماعی ہیں:
| اَرْضٌ | زمین | سَمَاءٌ | آسمان |
| حَرْبٌ | لڑائی | رِیْحٌ | ہوا |
| نَارٌ | آگ | نَفْسٌ | جان |
| شَمْسٌ | سورج | دَارٌ | گھر |
| کَاْسٌ | گلاس، جام | رُؤْیَا | خواب |
ان کے علاوہ ملکوں کے نام بھی مؤنث سماعی ہیں، جیسے مِصْرُ ، اَلشَّامُ وغیرہ۔ نیز انسانی بدن کے ایسے اعضاء جو جوڑے جوڑے ہوتے ہیں، وہ بھی اکثر وبیشتر مؤنث سماعی ہیں۔ مثلاََ یَدٌ ( ہاتھ) ، رِجْلٌ ( پاؤں)، اُذُنٌ (کان) وغیرہ۔،
6:6گزشتہ سبق میں ہم نے اسم کی گردان کی تھی تو حالت کے لحاظ سے ایک لفظ کی تین شکلیں بنی تھیں۔ لیکن اب مذکر کی تین شکلیں ہوں گی اور مؤنث کی بھی تین ۔اس طرح ایک لفظ کی اب چھ شکلیں ہوں گی۔ البتہ مؤںث سماعی کی تین ہی شکلیں ہوں گی ، کیونکہ ان کا مذکر نہیں ہو گا۔ ۔ اس کی مثال مندرجہ ذیل ہے:
| حالتِ رفع | حالتِ نصب | حالتِ جر | |
مذکر مؤنث | کَافِرٌ كَافِرَۃٌ | كَافِرََا كَافِرَةََ | كَافِرِِ كَافِرَةِِ |
مذکر مؤنث | حَسَنٌ حَسَنَۃٌ | حَسَنََا حَسَنَةََ | حَسَنِِ حَسَنَةِِ |
| مؤنث (سماعی) | نَفْسٌ | نَفْسََا | نَفْسِِ |