اسم بلحاظ وسعت( معرفہ / نکرہ)

8:1وسعت کے لحاظ سے اسم دو طرح کا ہوتا ہے: (1) اسمِ نکرہ (common noun) اور (2) اسمِ معرفہ (proper noun)۔ اسم نکرہ ایسے اسم کو کہتے ہیں جو کسی عام چیز پر بولا جائے۔ جیسے اردو میں ہم کہتے ہیں " ایک لڑکا آیا"۔ اب یہاں اسم "لڑکا" نکرہ ہے۔ اردو میں اسمِ نکرہ کی کچھ علامتیں ہیں۔ مثلاََ "ایک" ، "کوئی"، "کچھ" ، "بعض"  اور "چند" وغیرہ۔ اور اسمِ نکرہ کے ساتھ کوئی موزوں علامت لگانی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس انگریزی میں لفظ "The"  معرفہ کی علامت ہے۔ چنانچہ انگریزی میں "boy" اسمِ نکرہ ہے اور اس کا مطلب ہے "کوئی لڑکا" جبکہ "The  Boy" اسمِ معرفہ ہے اور اس کا مطلب ہے "لڑکا"۔ یعنی ایسا مخصوص لڑکا جو بات کرنے والوں کے ذہن میں موجود ہے یا گفتگو کے دوران جس کا ذکر آچکا ہے۔

8:2عربی میں اسمِ نکرہ کی علامات یہ ہے کہ اسمِ نکرہ کےآخری حرف پر بالعموم تنویں آتی ہے۔ مثلاََ "man" یا "کوئی مرد" کا عربی ترجمہ ہوگا "رَجُلٌ" ، "رَجُلََا"، یا "رَجُلِِ" اور اسمِ معرفہ کی ایک عام علامت یہ ہے کہ اسم کے شروع میں لامِ تعریف یعنی "اَلْ" کا اضافہ کرتے ہیں اور آخری حرف سے تنوین ختم کر دیتے ہیں۔ مثلاََ "The Man" یا "مرد" کا عربی ترجمہ ہوگا "اَلرَّجُلُ"، "اَلرَّجُلَ"، یا "اَلرَّجُلِ"۔

8:3عربی میں اسمِ نکرہ کی کئی قسمیں ہیں۔ لیکن فی الحال آپ کو تمام اقسام یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں دو اصول یاد کرلیں۔ اول یہ کہ جو بھی اسم معرفہ نہیں ہوگا اسے نکرہ مانا جائے گا۔دوم یہ کہ اسمِ نکرہ کے آخر میں عام طور پر تنوین آتی ہے۔گنتی کے صرف چند الفاظ اس سے مستثنٰی ہیں۔کچھ اسم ایسے ہیں جو کسی کے نام ہونے کی وجہ سے معرفہ ہوتے ہیں، لیکن ان کے آخر میں تنوین بھی آجاتی ہے۔جیسے مُحَمَّدٌ، زَيْدٌ وغیرہ اور ان کے درمیان تمیز کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ اسمِ نکرہ کی صرف دو قسمیں، جو زیادہ استعمال ہوتی ہیں، انہیں ذہن نشین کرلیں۔ایک قسم "اسمِ ذات" ہے جو کسی جاندار یا بے جان چیز کی جنس کا نام ہو جیسے اِنْسَانٌ (انسان)، فَرَسٌ (گھوڑا) یا حَجَرٌ (پتھر) وغیرہ۔ دوسری قسم "اسمِ صفت" ہے جو کسی چیز کی کوئی صفت ظاہر کرے۔ جیسے حَسَنٌ (اچھا، خوبصورت)، طَیِّبٌ (اچھا، پاک) ، یا سَھْلٌ (آسان) وغیرہ۔

8:4فی الحال اسم معرفہ کی پانچ قسمیں ذہن نشین کر لیں

  1.  اسمِ علم: یعنی وہ الفاظ جو کسی اسمِ ذات کی پہچان کے لیے اس کے نام کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے ایک انسان کی پہچان کے لیے حَامِدٌ ، ایک شخص کی پہچان کے لیے بَغْدَادٌ وغیرہ
  2. اسمِ ضمیر (Pronouns) :  یعنی وہ الفاظ جو کسی کے نام کی جگہ استعمال ہوتے ہیں، جیسے اردو میں ہم اس طرح نہیں کہتے کہ حامد کالج سے آیا اور حامد بہت خوش تھا ، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ حامد کالج سے آیا اور وہ بہت خوش تھا۔ یہاں لفظ "وہ" حامد کے لیے استعمال ہوا ہے، اس لیے معرفہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ضمیریں معرفہ ہوتی ہیں۔عربی میں اس کی مثالیں یہ ہیں: ھُوَ (وہ)، اَنْتَ (تو)، اَنَا (میں) وغیرہ۔
  3. اسمِ اشارہ (Demonstrative Pronouns): یعنی وہ الفاظ جو کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے ھٰذَا (یہ، مذکر) ، ذٰلِکَ (وہ، مذکر) ۔ ذہن میں یہ بات واضح کرلیں کہ جب کسی چیز کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے تو وہ کوئی عام چیز نہیں رہتی بلکہ خاص ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام اسمائے اشارہ معرفہ ہوتے ہیں۔
  4. اسم موصول :جیسے اَلَّذِیْ (جو کہ ، مذکر)، اَلَّتِي (جو کہ ، مؤنث) وغیرہ ۔ اسمائے موصولہ بھی معرفہ ہوتے ہیں۔
  5. مُعَرَّف بِالّلام : یعنی لام (اَلْ) سے معرفہ بنایا ہوا۔ جب کسی نکرہ لفظ کو معرفہ طور پر استعمال کرنا ہوتا ہے تو عربی  میں اس سے پہلے الف لام (اَلْ) لگا دیتے ہیں، جسے لام تعریف کہتے ہیں۔جیسے فَرَسٌ کے معنی ہیں کوئی گھوڑا لیکن اَلْفَرَسُ کے معنی ہیں مخصوص گھوڑا۔ اَلرَّجُلُ (مخصوص مرد) وغیرہ

کسی نکرہ کو معرفہ بنانے کے لیے جب اس پر لامِ تعریف داخل کرتے ہیں تو پھر اُس لفظ کے استعمال میں چند قواعد کا خیال کرنا ہوتا ہے۔ فی الحال ان میں سے دو قواعد آپ ذہن نشین کر لیں۔باقی قواعد ان شاء اللہ تعالٰی آئندہ اسباق میں بتائے جائیں گے۔ 

پہلا قاعدہ: جب کسی اسمِ نکرہ پر لام تعریف داخل ہوگا تو وہ اس کی تنوین کو ختم کر دے گا، جیسے حالتِ نکرہ میں رَجُلٌ ، فَرَسٌ وغیرہ کے آخری حرف پر تنویں ہے، لیکن جب ان کو معرفہ بناتے ہیں تو یہ اَلرَّجُلُ، اَلْفَرَسُ ہو جاتے ہیں۔ اب ان کے آخری حرف پر تنوین ختم ہو گئی اور صرف ایک پیش رہ گئی ۔یہ بہت پکا قاعدہ ہے۔ اس لیے اس بات کو خوب اچھی طرح یاد کر لیں کہ معرف بالّلام پر تنوین کبھی نہیں آئے گی۔

دوسرا قاعدہ: آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ بعض الفاظ میں لامِ تعریف کے ہمزہ کو لام پر جزم دے کر پڑھتے ہیں، جیسے اَلْقَمَرُ ، جبکہ بعض الفاظ میں لام کو نظر انداز کر کے ہمزہ کو براہِ راست اگلے حرف پر تشدید دے کر ملاتے ہیں، جیسے اَلشَّمْسُ۔ تو اب سمجھ لیجئے کہ کچھ حروف ایسے ہیں جن سے شروع ہونے والے الفاظ پر جب لامِ تعریف داخل ہوگا تو اَلْقَمَرُ کے اصول کا اطلاق ہوگا۔اس لیے ایسے حروف کو حروفِ قمری کہتے ہیں اور جن حروف سے شروع ہونے والے الفاظ پر اَلشَّمْسُ  کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے، انہیں حروفِ شمسی کہتے ہیں۔ آپ کو یاد کرنا ہوگا کہ کون سے حروف شمسی اور کون سے حروف قمری ہیں، اور ان کی ترکیب بہت آسان ہے۔ ایک کاغذ پر عربی کے حروف تہجی لکھ لیں۔ پھر و ، ذ سے ط، ظ تک تمام حروف کو underline کر لیں۔ ان سے قبل کے دو حروف ت ، ث اور بعد کے دو حروف ل، ن کو بھی انڈر لائن کر لیں۔ یہ سب حروفِ شمسی ہیں۔ باقی تمام حروف ِ قمری ہیں۔

"حق کا خوف عجب غم ہے" : اس جملہ میں آنے والے تمام حروف قمری ہیں

یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ مذکورہ بالا قاعدہ حقیقتََا عربی گریمر کا نہیں بلکہ تجوید کا ہے، لیکن عربی زبان کو درست طریقہ پر بولنے اور لکھنے کے لیے اس کا علم بھی ضروری ہے۔

پیراگراف  نمبر 5:3 میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ غیر منصرف اسماء حالتِ جر میں  زیر قبول نہیں کرتے۔ جیسے مَسَاجِدُ حالت نصب مِیں مَسَاجِدَ ہو جائے گا، لیکن حالتِ جر میں مَسَاجِدِ نہیں ہوگا بلکہ مَسَاجِدَ ہی رہے گا۔ اس اصول کے دو استثناء (exceptions) ہیں۔ اول یہ کہ غیر منصرف اسم جب معرف بالّلام ہوتا ہے تو حالتِ جر میں زیر قبول کرتا ہے ، جیسے اَلْمَسَاجِدُ سے حالت نصب میں اَلْمَسَاجِدَ ہوگا اور حالتِ جر میں اَلْمَسَاجِدِ ہو جائے گا۔ دوسرا استثناء ان شاء اللہ ہم آئندہ سبق میں پڑھیں گے۔

پچھلے سبق کی مشق میں جتنے الفاظ دیے گئے ہیں ان کی اب 36 شکلیں بنائیں یعنی 18 شکلیں نکرہ کی اور 18 شکلیں معرفہ کی۔

پچھلا سبق اگلا سبق