اسم کی حالت (حصہ دوم)

5:1گذشتہ سبق میں ہم نے پڑھا ہے کہ عربی کے تقریباََ 80-85 فیصد اسماء کا آخری حصہ تینوں حالتوں میں تبدیل ہوجا تا ہے اور ایسے اسماء کو مُنصرف اسماء کہتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی 15-20 فیصد اسماء تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں ؟ اور عبارت(sentence) میں ان کے استعمال کو کیسے پہچانتے ہیں ؟ اس سبق میں ہم نے یہی بات سمجھنی ہے۔

5:2عربی کے باقی پندرہ بیس فیصد اسماء جو معرب منصرف نہیں ہیں، ان میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جن کا آخری حرف تینوں حالتوں میں نہیں بدلتا بلکہ وہ صرف دو شکلیں اختیار کرتے ہیں، یعنی حالتِ رفع میں اُن کی الگ شکل ہوتی ہے  لیکن نصب اور جر دونوں حالتوں میں ان کی شکل ایک جیسی رہتی ہے۔ ایسے اسماء کو عربی قواعد میں "معرب غیر منصرف" یا صرف "غیر منصرف" بھی کہا جاتا ہے۔اسم غیر منصرف کے آخری حرف کی تبدیلی کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

چند معرب غیر منصرف اسماء کی گرداں مع معنی

حالتِ رفعحالتِ نصبحالتِ جرمعنی
اِبرَاھِيْمُاِبرَاھِيْمَاِبرَاھِيْمَمرد کا نام
مَكَّةُمَكَّةَمَكَّةَشہر کا نام
مَرْيَمُمَرْيَمَمَرْيَمَعورت کا نام
اِسْرَائِیْلُاِسْرَائِیْلَاِسْرَائِیْلَقوم كا نام
اَحْمَرُاَحْمَرَاَحْمَرَسُرخ
اَسْوَدُاَسْوَدَاَسْوَدَسیاہ

5:3امید ہے کہ مذکورہ مثالوں میں آپ نے یہ بات نوٹ کرلی ہوگی کہ:

  1. غیر منصرف اسماء کی نصب اور جر میں ایک ہی شکل ہوتی ہے مثلاََ اِبْرَاھِيْمُ حالت رفع سے حالت نصب میں  اِبْرَاھِيْمَ ہوگیا لیکن حالت جر میں  اِبْرَاھِيْمِ نہیں ہوا بلکہ  اِبْرَاھِيْمَ ہی رہا۔ اسی طرح باقی غیر منصرف اسماء کی بھی نصب اور جر میں ایک ہی شکل ہے۔
  2. غیر منصرف اسماء کے آخری حرف پر حالت رفع میں ایک پیش ُ اور نصب اور جر دونوں حالتوں میں صرف ایک زبر َ آتی ہے۔ لہٰذا ایک زبر لکھتے وقت الف کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ قاعدہ صرف دو زبر کے لیے مخصوص ہے۔ یاد رکھئے کہ اسم غیر منصرف کہ آخر پر تنویں کبھی نہیں آتی۔ جس کی وجہ سے معرب اور غیر منصرف اسماء میں تمیز کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

5:4آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ فلاں اسم معرب منصرف ہے یا غیر منصرف ! تو اس کی حقیقت تو یہ ہے کہ غیر منصرف اسماء کے کچھ قواعد ہیں جو آخر میں پڑھائے جاتے ہیں۔ فی الحال ہمارا طریقہ کار یہ ہوگا  کہ ذخیرہ الفاظ میں ہم غیر منصرف اسماء کی نشاندہی ان کے آگے لفظ (غ) بنا کر کردیا کریں گے۔ گویا سردست آپ کو جن اسماء کے متعلق بتا دیا جائے انہیں غیر منصرف سمجھئے، اُن پر کبھی تنویں نہ ڈالیے اور ان کی رفع، نصب، جر اُسی طرح لکھیں جیسے اوپر بیان کی گئی ہے۔ نیز یہ بھی نوٹ کرلیں کہ عربی میں عورتوں، شہروں اور ملکوں کے نام عام طور پر غیر منصرف ہوتے ہیں۔

5:5عربی زبان کے کچھ گنے چُنے اسماء ایسے بھی ہیں جو رفع، نصب، جر تینوں حالتوں میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کرتے اور تینوں حالتوں میں ایک جیسے رہتے ہیں۔ ایسے اسماء کو مَبْنِي کہتے ہیں۔ ان کا کوئی قاعدہ نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بھی ہمارا طریقہ کار یہ ہوگا کہ ذخیرہ الفاظ میں ان کے آگے (م) بنا کر ہم نشاندہی کریں گے کہ یہ الفاظ مبني ہیں۔ ان کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

چند مبنی اسماء کی گردان مع معنی

حالتِ رفعحالتِ نصبحالتِ جرمعنی
ھٰذاھٰذاھٰذایہ(مذکر)
اَلَّذِیْاَلَّذِیْاَلَّذِیْجوکہ (مذکر)
تِلْكَتِلْكَتِلْكَوہ (مؤنث)

5:6اب اسم کی حالت کے متعلق چند باتیں سمجھ کر یاد کرلیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کسی لفظ کے آخری حصہ میں ہونے والی تبدیلی کو عربی گرامر میں "اِعراب" کہتے میں۔ یاد رہے کسی اسم کی حالت سے مراد اُس کی اعرابی حالت ہی ہوتی ہے، جو تین ہی ہوتی ہیں، یعنی رفع ، نصب یا جر۔ اور ہر اسم عبارت میں استعمال ہوتے وقت مرفوع، منصوب یا مجرور ہوتا ہے۔

5:7دوسری بات یہ ہے کہ کسی لفظ کی اعرابی حالت چونکہ زیادہ تر حرکات یعنی زیر، زبر یا پیش کی تبدیلی سے ظاہر کی جاتی ہے، اس لیے حرکات لگانے کو بھی غلطی سے اعراب کہہ دیتے ہیں، جبکہ ان دونوں میں فرق ہے۔ اِعراب اور حرکات کے فرق کو ہم ایک لفظ کی مدد سے سمجھ لیتے ہیں،لفظ مُنَافِقٌ کے آخری حرف "ق" سے پہلے کے حروف پر جہاں کہیں بھی زبر  َ  ، زیر  ِ  ، اور پیش  ُ   لگی ہوئی ہیں، وہ سب اس لفظ کی حرکات ہیں۔ اسی طرح لفظ اِبرَاھِيْمُ کے آخری حرف میم پر ایک پیش  ُ  اُس کا اعراب ہے، جبکہ اس سے پہلے کے حروف پر زبر َ  اور زیر  ِ  اس کی حرکات ہیں۔

5:8آخری بات یہ ہے کہ زبر جب حرکت کے طور پر استعمال ہوتا ہے تو اسے فتح کہتے ہیں اور اعراب میں اُسے نصب کہا جاتا ہے۔ زیر کو حرکت میں کسرہ اور اعراب میں جر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح پیش کو حرکت میں ضمہ اور اعراب میں رفع کہا جاتا ہے۔

پچھلا سبق اس درس کی مشق اگلا سبق